Articles

 ARTICLES:

ایک جامع ِ کمالات ہستی کی رحلت 

    

از مفتی احمد بن محمد ارشد خان 

امام و خطیب شہاب مسجد بٹلہ ہاؤس اوکھلا نئ دہلی 


12 اپریل بروز اتوار صبح آٹھ نو بجے کے درمیان بذریعہ واٹساپ حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب فلاحی کے سانحہ ارتحال کی خبر موصول ہوئی رنج وافسوس کے گہرے اثر سے گویا اعصاب پر رعشہ طاری ہوگیا دل ودماغ اس خبر کے یقین پر کسی طرح آمادہ نہیں ہورہے تھے ،لیکن فطری طور پر اس عالم ِ رنگ و بو کا نقشہ ہی کچھ ایسا ہے کہ دنیا کی زندگی کے بعد موت یقینی امر ہے یہ دنیا آنی جانی ہے اور اس کی ہر شئی فانی ہے دائم لافانی اور جاودانی صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات ِ والا صفات ہے کل من علیھا فان و یبقیٰ وجہ ربک ذی الجلال و الاکرام اس خاک دانِ ارضی سے نہ معلوم کتنے انسان ہر روز عالم ِ آخرت کی طرف سدھارتےہیں اور فی الحال کرونا وائیرس کے زمانہ میں تو قزاق ِ اجل نے ہر طرف لوٹ مار مچا رکھی ہے کیا امریکہ کیا افریقہ کیا ہند اور کیا سند ھ ہر طرف موت کا رقص ہے دوڑ تی بھاگتی زندگی جامد ہوگئی ہے جن شہروں اور بازاروں میں ہٹو بچو کے شور تھے آج وہاں سناٹے کا راج ہے اور گویا دنیا کامنظر نامہ لمن الملک الیوم للہ الواحد القہار کے واقعہ کی منظر کشی کررہا ہے لیکن ان جانے والوں میں کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی ایک عالم کی زندگی اور جن کی موت ایک عالم کی موت ہوتی ہے موت العالم موت العالم انہی ہستیوں میں ایک عظیم نام مولانا عبد الرحیم صاحب فلاحی کا ہے ۔

 موصوف مفتی عبد اللہ صاحب مظاہری بانی و سابق شیخ الحدیث جامعہ مظہر سعادت ہانسوٹ کے برادر صغیر اور ہندوستان کی عظیم دینی دانشگاہ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کواکے قدیم مؤقر ترین استاذ حدیث و تفسیر تھے ہلکی سفید داڑھی بسا اوقات عربی جبہ زیب تن فرماتے اور سرخ یاسفید عربی رومال ساتھ رکھتے انتہائی مختصر علالت کے بعد 12اپریل کی صبح کھروڑ بھروچ گجرات کے اسپتال میں انتقال فرماگئے انا للہ انا الیہ رجعون  

 موصوف کے والد ِماجد خاندانی کاشتکار اور بڑے زمیندار تھے بہت ہی دیندار پرہیزگار علماء صلحاء سے محبت کرنے والے تھے علماء کی مجالس ِپند و موعظت میں ذوق و شوق سے حاضر ہوتے اور پھر ان نصائح کو عملی جامہ پہناکر اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ سمجھتے تھے نہایت ہی محبت و اپنائیت سے تبلیغی جماعت کی دعوت وخدمت کرتے اوران کا تعاون کرتے یقینا انہی امور خیر کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی اولاد عطا فرمائی جو علم وعمل کا پیکر و مجسمہ ثابت ہوئی ۔

 حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب فلاحی نے صوبہ گجرات کے قدیم و عظیم ادارہ جامعہ فلاح ِ دارین ترکیسرگجرات سے سند ِفضیلت حاصل کی اور پھر راہِ علم کے اس مسافر نے اپنی مزید علمی تشنگی کی سیرابی کیلئے مظاہر العلوم سہارنپور کا رخ کیا اور اکابر ِ علمائے امت کی صحبت میں رہ کر خوب استفادہ کیا اور پھر یہ طالبعلم آسمان ِ ِ علم و عمل کا ایسا آفتاب و ماہتاب ثابت ہوا جس نے ملک ہندوستان ہی نہیں بیرون ِ ملک بھی امت کے ایک بڑے طبقہ کو منور کیا 

 باری تعالیٰ نے آپ کو گونا گوں صفات سے نوازا تھا تواضع ، خوش اخلاقی ، ملنساری آپ کے نمایاں اوصاف ہیں آپ نے تدریس کی ہمہ وقتی مشغولیت کے ساتھ تصنیف و تالیف بھی جاری رکھی اور کئی قیمتی کتابیں اور پر مغز مقالات زیور ِ طبع سے آراستہ ہوکر منصہ شہود پر آئیں اور طالبین و شائقین کیلئے توجہ کا مرکز ثابت ہوئیں اور اپنی جاندار خطابت سے دینِ متین کی ترویج و اشاعت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا بعٖض اوقات موصوف کے طویل تعلیمی اور اصلاحی دورے ہوتے ، دن رات جلسوں میں شرکت کرتے تقریریں کرتے کانفرسوں اور جلسوں کی صدارت کرتے اور پھر مدرسہ میں پہنچتے ہی کتب ِ متعلقہ کا درس دیتے در اصل جہد ِ مسلسل کا یہ انداز انہوں نے اپنے برادر گرامی قدر حضرت مفتی عبد اللہ صاحب مظاہری سے سیکھا تھا اورآپ کی زندگی کا سب سےنمایاں اور انوکھا کارنامہ ملکی پیمانہ پر قرآنی مسابقات کا انعقاد ہے جن میں آپ پورے ذوق و شوق اور مکمل وارفتگی کا مظاہرہ فرماتے اور یہی قرآنی خدمت آخرت میں آپ کیلئے نجات کا وسیلہ ہوگی ان شاء اللہ ۔ 

 بندہ عاجز نے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ جامعہ مظہر سعادت ہانسوٹ کی پرنور فضاؤں میں گزارا سال میں کئی مرتبہ جامعہ کے افتتاحی و اختتامی جلسوں ، اور انجمن کے مسابقات میں حضرت تشریف لاتے اور خطابات میں اپنے طویل تجربات کی روشنی میں طلبہ جامعہ کو استعداد سازی کے گربتاتے اور ممتاز طلبہ کو اپنی جیب ِ خاص سے انعام دے کر حوصلہ افزائی بھی فرماتے 

 آپ اپنے بڑے بھائی حضرت مفتی عبد اللہ صاحب مظاہری کے بہت ہی معتمد ، مزاج شناس اور ان کے مشن میں معین و مددگار تھے آپ کا اس طرح اس دنیا سے اچانک رخصت ہوجانا حضرت مفتی صاحب اور آپ کے اہل خانہ و متعلقین کیلئے بہت بڑا حادثہ ہے اور یہ تکلیف اس وقت کئی گنا بڑھ گئی جبکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت سے اہل ِ خانہ کے


ساتھ آپ کے بڑے بھائی حضرت مفتی عبد اللہ صاحب جو گزشتہ کئی سالوں سے صاحب ِ فراش ہونے کے ساتھ ساتھ قید و بند کی دل دہلا دینے والی صعوبتوں سے دو چار ہیں آپ کے آخری دیدار سے محروم رہے 

 بہرحال اس وقت حضرت اقدس کے متعلقین کی کیفیات بھی ناقابل بیان ہیں یقینا اس اندوھناک حادثہ پر غیر معمولی تاثر ایک فطری امر ہے ہم خدام بھی اس روح فرسا سانحہ فاجعہ پر غم والم کی سخت وشدید مضطربانہ کیفیات کیفیت محسوس کرتے ہیں اور تعزیت کناں ہیں یہ الفاظ تاثرات کا شکستہ اظہار ہیں بارگاہ خداوندی میں بصمیم قلب دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے اور متعلقین ومنتسبین کو صبر جمیل کی توفیق ارذانی فرمائے 

                                         عمر بھر قرآن کا پیغام پھیلاتا رہا 

                                         ہر گھڑی اسلام کی تبلغ فرماتا رہا 

                                                                         اچانک دے گیا داغِ جدائی 

                                                                         قضائے قدس اس کو راس آئی

Comments

Popular posts from this blog

Masail e fiqh