Articles
تعزیتی کلمات بر وفاتِ نبیرہ مسیح الامت حضرت مولانا حفی اللہ خانصاحب
✏️ از مفتی احمد بن محمد ارشد خان امام و خطیب شہاب مسجد بٹلہ ہاؤس اوکھلا نئ دہلی
Ibnearshad9639@gmail.com
خالقِ ارض و سماء اور مالکِ کون مکان کا اٹل اصول ہے كل نفس ذائقة الموت دنیا میں آمد جانے کی علامت ہے لیکن علماء کا مسلسل اور پے در پے اس دنیا سے رخصت ہو جانا حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق قربِ قیامت کی علامت ہے کرونا وائرس نے جہاں اہلِ دنیا کو بے پناہ مشکلات سے دو چار کیا ہے وہیں مسلمان دوہرے مسائل میں مبتلاء ہوئے ہیں کرونا وائرس کے زمانے میں ایسی عظیم اور جلیل القدر ہستیاں اس دارِ فانی سے عالم بقاء کی طرف کوچ کر گئی ہیں کہ ان کی ذات برکاتِ ِخداوندی کے نزول کا مظہر اور ہم مسلمانوں کے لئے باعث رحمت تھی ان ہستیوں میں ایک نامِ نامی اسم ِگرامی نبیرہ مسیح الامت حضرت مولانا حفی اللّٰہ خان صاحب کا ہے
10 جولائی 2020 کی شام بہت ہی پر سکون ماحول میں ڈھل رہی تھی لیکن اس وقت تلاطم سا آگیا جب موصوف مرحوم کے بہنوئی مولانا وصی اللہ صاحب (عرف آرزو میاں) نے مغرب کے بعد فون پر اطلاع دی کہ عزیزِ گرامی حضرت مولانا حفی اللّٰہ صاحب کا انتقال ہوگیا ہے اچانک آنے والی یہ خبر ذاتی طور پر بھی میرے لئے انتہائی پریشان کن تھی کہ میری والدہ کے گھرانے کا اس عظیم مسیحی خاندان کے ساتھ کئی دہائیوں سے بہت ہی والہانہ بلکہ عاشقانہ تعلق رہا ہے اللہ اس تعلق کو ہمیشہ باقی رکھے جب کبھی وہ اس خاندان کا تذکرہ کرتی ہیں تو عظمت و محبت سے ان کا دل معمور ہو جاتا ہے ہمارے پرنانا حاجی محمد بشارت خان (مرحوم) حضرت مولانا مسیح اللّٰہ خان صاحب کے انتہائی قریبی دوست ان کی خانقاہ کے شب وروز کے حاضر باش تھے اور ہمارے نانا مولوی محمد منیف صاحب مرحوم اور ان کے بھائی مولوی حنیف صاحب مرحوم حضرت مولانا حفی اللّٰہ صاحب کے والد ماجد مولانا صفی اللہ صاحب مرحوم ( عرف بھائی جان) کے رفیق درس تھے ہماری نانی محترمہ ( اللّٰہ عافیت کے ساتھ ان کی عمر میں برکت عطا فرمائے) ان کی دوستی کے بہت سے واقعات کھبی کھبار سناتی ہیں تو محفل خوشیوں سے عطر بیز ہوجاتی ہے ان واقعات کا ذکر اس مختصر مضمون میں طوالت کا باعث ہے
بہرحال حضرت مولانا حفی اللّٰہ صاحب اپنے والد کے بعد ہندوستان ہی نہیں دنیا کی عظیم دینی، تعلیمی، تربیتی، اور اصلاحی دانشگاہ مدرسہ مفتاح العلوم جلال آباد کے مہتمم اور روح رواں تھے مدرسہ مفتاح العلوم کا منظر ان کے حسنِ ذوق کے آئینہ دار ہے وہ اپنے والد و دادا کے علوم و معارف کے امین اور جانشین تھے اپنے والد کے انتقال کے بعد ان کی خانقاہ کی شمع کو روشن کر رکھا تھا جمعہ کے روز دور و دراز سے آنے والے واردین ومریدین کے درمیان اصلاحی خطابات کا معمول تھا حضرت مولانا دینِ متین اور ملت کے ایسے سچے خادم تھے کہ بڑے صبر آزما وقت کو بھی برضا و رغبت الہی برداشت کیا جس کے نتیجے میں کچھ ماہ قبل قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں اور وہاں سے آنے کے بعد بحسن و خوبی اپنے مشن میں مشغول ہو گئے
حضرت مولانا مختصر سی علالت کے بعد اچانک اس دنیا سے تشریف لے گئے یہ تو مشیتِ ِخداوندی ہے ایک دن ایسا ہونا ہی تھا
ان أجل الله إذا جاء لا يؤخر افراد آتے ہیں چلے جاتے ہیں
لیکن کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو اپنے پیچھے بہت سی یادگاریں چھوڑ جاتے ہیں دنیا جن پر آنسو بہاتی ہے انھیں اپنی عقیدت و محبت کا خراج پیش کرتی ہے ان کی یادیں سینہ میں بساتی ہے ان کے تذکروں سے سکون ملتا ہے
حضرت مولانا کی شخصیت یقیناً انھیں افراد میں سے ہے جنھیں برسوں یاد کیا جائیگا ان کی یادیں وباتیں ملت کے افراد کو تڑپاتی رہینگی موصوف کے انتقال سے ایسا خلا محسوس ہوتا ہے جسے پُر کرنا بظاہر مشکل نظر آتا ہے
حضرت مولانا اپنی عمر کی 49 بہاریں ہی دیکھ پائے تھے کہ مالکِ حقیقی سے جا ملے
ہم دعا گو ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ موصوف کے درجات کو بلند فرمائے اعلی علییین میں مقامِ ِخاص عنایت فرمائے پسماندگان کو صبرِجمیل نصیب فرمائے رشتہ داروں کو بطورِ خاص حضرت مولانا آرزو میاں صاحب اور مرحوم کے برادرِ خورد حافظ و قاری ولی اللہ صاحب کو ہمت و حوصلہ نصیب فرمائے اللہ تعالیٰ اس خاندان کے لگائے ہوئے علمی دبستان مدرسہ مفتاح العلوم کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے
ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد
Comments
Post a Comment