Articles

 ARTICLES:

✮احمد بن محمد ارشد خان ✮:

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و وبرکاتہ


💐از احمد بن محمد ارشد خان💐


🌳بسم اللہ الرحمن الرحیم 🌳


خالق ارض و سماء اور مالک کون و مکاں نے اس کائنات کو وجود بخشا اس میں انسانوں کی تخلیق فرمائی اور انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کیلئے اور راہ راست دکھانے کیلئے کتاب اللہ اور رجال اللہ کی صورت میں دو عظیم سلسلے جاری فرماے چنانچہ سب سے اخیر میں تاجدار انبیاء سید المرسلین احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر قصر نبوت کی عمارت کو تام فرمادیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مقدس کو نازل فرماکر تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کا فریضہ عائد فرمایا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فریضہ کی ادائیگی کیلئے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں رکھا اور اس مقصد کی خاطر بے شمار قربانیاں عظیم دشواریاں مصائب کا انبار پرہشانیوں اور جھمیلوں کی کثرت کا اس طرح سامنا کیا کہ اللہ تعالی نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا(لعلک باخع نفسک أن لا يكونوا مؤمنين) بالاخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مسعود کی آخری ساعت آپہنچی اور وعدۂ خداوندی کی تکمیل ہوگئی(انك ميت و انهم ميتون ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال پرملال کے بعد ختم نبوت کے نتیجہ میں آپ کی امت مرحومہ پر تبلیغ اسلام کا فریضہ عائد کردیا گیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حجہ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا(بلغوا عني ولو آية ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین تابعین تبع تابعین اور بزرگان دین نے اس حکم کی انجام دہی میں وہ لازوال و بے مثال کارنامہ انجام دیا کہ تاریخ اسلام میں ! نہیں میں نے غلط کہا بلکہ تاریخ عالم میں آب زر سے رقم کیا جائیگا اور ہر زمانہ میں احکام شرعیہ کی ترویج میں وہ وسائل اختیار کئے گئے جو مؤثر ثابت ہوسکتے ہوں اور جن کا نفع متعدی اور عام و تام ہو خواہ وہ جہاد وقتال کا میدان ہو خواہ درس و تدریس اور تعلیم و تعلم ہو خواہ تصنیف و تالیف ہو خواہ تقریر و خطابت ہو اور خواہ اس ترقی یافتہ دور کی جدید ٹیکنولوجی ، الیکٹرانک ، و سوشل میڈیا ہو

کلام کو طول نہ دیتے ہوئے اس مختصر سی تمہید کے بعد اصل مقصد کی طرف آتا ہوں

لگے ہاتھ بتاتا چلوں کہ آج سوشل میڈیا ہماری زندگیوں میں اس طرح داخل ہو چکا ہے کہ لاکھ چاہنے کے باوجود ہم اس کے تلاتم سے باہر نہیں نکل سکتے گویا یہ ایک ایسا شہر تلسمات ہے کہ اس میں جانے کا رستہ تو ہے لیکن باہر نکلنے کا کوئی امکان نہیں۔ سوشل میڈیا جیسے فیس بک کا نشہ کچھ ایسا ہے کہ اس میں ہر کوئی شخص مبتلا نظر آتا ہے۔ کیا چھوٹا کیا بڑا کیا بوڑھا کیا نوجوان ہر کوئی اس کی لت میں لگ چکا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر چیز کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے۔ جب اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے اور لوگ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے سب سے پہلے اک یہی کام کرتے نظر آتے ہیں فیس بک کے علاوہ بھی بہت ساری مشہور زمانہ ویب سائٹس ہیں جہاں پر آج کل کے نوجوان بڑی خوشی کے ساتھ اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن معاشرے میں پیش آنے والے ہر مسئلے کا ذمہ دار محض سوشل میڈیا کو ٹھہرانا درست بھی نہیں اور یہ نا انصافی بھی ہو گی۔ کیونکہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں اک مثبت اور اک منفی اب سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والے شخص کی ذہنیت پر منحصر کہ وہ 

اس سہولت سے فائدہ اٹھاتا ہے یا پھر اپنے لیے نقصان کو دعوت دیتا ہے۔

سوشل میڈیا کی ایک نوع ٹیلیگرام چینل ہے جو اپنے اندر بہت سی صفات لئے ہوئے ہے جو عیاں را چہ بیاں کا مصداق ہیں اور یہ ٹیلیگرام عظیم احسان الہی عطئہ خداوندی اور رحمت ہے بشرطیکہ بندہ اس کو اپنے گلے کا طوق اور زحمت نہ بنائے اس ٹیلیگرام کو بھی لوگوں نے اپنے مقصد کیلئے اپنی محنت کا میدان بنایا 

لیکن انہی لوگوں میں کچھ اللہ کے نیک بندے وہ ہیں جنہوں نے اس ٹیلیگرام کو دین متین کی عظیم محنت کا میدان بنایا اور اس کے ذریعہ سے احکام شرعیہ کی ترویج کا ایسا بیڑا اٹھایا WhatsApp Facebook Twitter پر موجود بہت سے گروپوں پر فوقیت لے گئے انہی خاصان خدا میں کچھ اسماء گرامی یہ ہیں 🌺مفتی عارف صاحب صدر مسائل شرعیہ حنفیہ 🌺 مفتی زکریا صاحب🌷 مفتی نسیم الندوی و المیواتی 🌹مفتی سعود مرشد بانکوی 🌼 مفتی سراج الحق صاحب سعادتی، مفتی ابو حبیبہ میواتی و مفتی شبیر احمد صاحب بھاگلپوری، اور مفتی ابو الحسن صاحب منجہ خیلوی، مفتی عطاء الرحمن صاحب بروڈوی، 🌻 وغیرہ کے اسماء قابل ذکر ہیں ان حضرات نے ایک دوسرے نے ایک دوسرے کے تعاون سے ٹیلیگرام پر ایک گروپ تشکیل دیا (الموسوم بمسائل الشرعیہ الحنفیہ )

جن کے گروپ کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ٹیلیگرام کی ایجاد انہی کے مقصد عظیم کی تکمیل کیلئے ہوئی تھی اور ان حضرات نے (بشمول معاونین ) اس گروپ کا ایسا صحیح استعمال کیا کہ دوسروں کیلئے مشعل راہ اور نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس گروپ کے بانی زکریا صاحب اچلپوری صاحب کو م


نجانب اللہ ایسے رفقاء کار میسر ہوئے جو شانہ بشانہ قدم بقدم حاضر باش و حاضر جواب منزل مقصود کی طرف رواں رواں ہیں اور ان حضرات سے اورگروپ منتظمین حضرات کی جانب سے مقرر 

کردہ مفتان عظام سے روز انہ سیکڑوں لوگ اپنی تشنگی کو سیرابی سے اور اپنے شکوک و شبہات کو یقین کی کیفیت سے بدل رہے ہیں اور یہ حضرات مفتیان عظام (وما أسألكم عليه من أجر ) کی سچی تصویر بنے ہوئے ہیں خدا کی قسم یہ خلوص و للہیت وہ جوہر ہے جو نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے ورنہ آج کی دنیا میں لوگ فقط مشورہ دینے کے وقت کے سیکڑوں روپئے وصول کرتے ہیں

غالب صاحب کا شعر ہے

یہ دنیا مطلب کی ہے تم کس مخلص کی بات کرتے ہو غالب 

لوگ جنازہ پڑھنے آتے ہیں وہ بھی اپنے ثواب کی خاطر

 لیکن یہ حضرات ہیں کہ اپنے قیمتی اوقات میں سے وقت کو فارغ کرکے لوگوں کے مسائل حل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اور ایسے منظم طریقہ سے حل کررہے ہیں کہ سائلین کیلئے مکمل تسلی اور تشفی کا سامان ہے اور جوابات کو دلائل سے ایسا مزین کرتے ہیں جیسا کہ خوبصورت ہار میں قیمتی موتیوں کو جڑ دیا گیا ہو

یہاں پہنچ کر میں سائلین اور متمتعین کو کہنا چاہونگا جو حوالہ جات کا بڑی شدت سے مطالبہ کر تے ہیں کہ دلائل اور حوالہ جات کی فراہمی اتنا مشکل کام ہے کہ اس کی دشواری کو وہی شخص جان سکتا ہے جو اس دشوار گزار گھاٹی سے گزرا ہو 

اللہ ان مجیبین حضرات کو دارین کی سعادت نصیب فرماے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا مصداق بنائے (نضر الله أمراء سمع مقالتي فحفظها ووعاها و أداها أو كما قال)

الغرض مفتی فرید صاحب قاسمی کا یہ گروپ ایک حسین گلدستہ ہے اور ایک عام دسترخوان ہے جس پر نوع بنوع اور قسم قسم کے مسائل کے حل سجے ہوئے ہیں کہیں وضو و غسل کی پاگیزگی ہے 

کہیں نماز کا خشوع و خضوع ہے اور کہیں سود و قمار سے اجتناب کی تلقین ہے اس کہیں کفالت و وکالت کی ذمہ داری کا احساس ہے وغیرہ وغیرہ 

اخیر میں ممبران گروپ سے دست بستہ درخواست کرونگا کہ اپنے دوستوں کو بھی اس کار خیر میں شرکت کی دعوت دیں یہی سچی دوستی کا ثبوت ہے اور اللہ کرے کہ جس طرح اس گروپ میں ہند و پاک سعودیہ و ویسٹ اینڈز وغیرہ کے حضرات ہیں عالم اسلام کے خطہ خطہ کے لوگ اس سے فیضیاب ہوں 

اخیر میں اس گروپ سے وابستہ ہونے کے بعدکی اپنی مختصر سی سر گذشت قلمبند کرکے قلم بند کرنے کی کوشش کرونگا کہ جب سے اس گروپ سے وابستہ ہوا ہوں اس وقت سے وہ لغویات جن میں مشغول رہتا تھا مثلا بلا ضرورت Facebook کا استعمال WhatsApp کی مزاحیہ گروپ کی مصروفیت سے کنارہ کش ہوگیا ہوں الحمد اللہ علی ذلک 

کیونکہ مسائل شرعیہ حنفیہ میں ہر لمحہ لذیذ اور جدید پکوان دستیاب ہیں 

کل جدید لذیذ یہ چند سطریں فریدی صاحب کے پیہم اصرار کا نتیجہ ہیں ورنہ مسلسل سفر ہے اور ابھی بھی ایک طویل سفر کیلئے پا بہ رکاب ہوں

جگر مرادآبادی صاحب نے کہا تھا 


مجھ کو کسی سے کام کیا میرا کہیں قیام کیا

میرا سفر ہے در وطن میرا وطن ہے در سفر

یہ مختصر سا تاثر ہے جو مبالغہ نہیں جو جھوٹ کی ایک چھوٹی سی قسم ہے بلکہ مبنی بر حقیقت ہے 

اللہ مجھے اس گروپ سے وابستہ رکھے 



🌹وابستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ🌹


💐مفتی احمد بن محمد ارشد خان💐

Comments

Popular posts from this blog

Masail e fiqh